27 جون, 2020

    یا کہیے کیا رکھیں ہیں ہم تجھ سے یار خواہش

    میر تقی میر کی ایک غزل
    17 نومبر, 2025

    دکھوں میں سرپرستی آپ نے کی

    ایک اردو غزل از رشید حسرت
    28 جون, 2020

    آج کچھ بے حجاب ہے وہ بھی

    میر تقی میر کی ایک غزل
    29 ستمبر, 2025

    یہی نہیں کہ فقط ہم ہی

    اعتبار ساجد کی ایک اردو غزل
    27 نومبر, 2019

    یہ سب ظہورِ شانِ

    امیر مینائی کی اردو غزل
    22 جون, 2020

    جو دنیا کے الزام آنے تھے، آئے

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    29 مئی, 2020

    وہ دریچے میں کب نہیں آتا

    عدیم ہاشمی کی اردو غزل
    1 جنوری, 2023

    رونما جو بھی ہوا ہے وہ فنا ہو جائے گا

    غزل بقلم محمد ولی اللّٰہ ولی
    17 جون, 2020

    تضاد جذبات میں یہ نازک مقام آیا تو کیا کرو گے

    قابل اجمیری کی اردو غزل
    9 مئی, 2020

    خواب زدہ ویرانوں تک

    مبشر سعید کی ایک اردو غزل
    24 اکتوبر, 2025

    وہ اضطراب کا منظر عجیب لگتا ہے

    زبیر خیالی کی ایک اردو غزل
    19 ستمبر, 2020

    دکھ درد چھپائے رقص کیا

    افتخار شاہد کی ایک غزل
    28 جون, 2020

    دیوانگی میں گاہ ہنسے گاہ رو چکے

    میر تقی میر کی ایک غزل
    28 مئی, 2020

    جو دیا تو نے ہمیں و ہ صورتِ زر رکھ لیا

    عدیم ہاشمی کی اردو غزل
    30 جون, 2020

    کوفت سے جان لب پہ آئی ہے

    میر تقی میر کی ایک غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button