ایک صدمے سے ہر دن ابھرتی رہی
روز جیتی رہی روز مرتی رہی
جس کو پانا ہی ممکن نہیں تھا کبھی
عمر بھر اس کو کھونے سے ڈرتی رہی
سیڑھیاں کامیابی کی چڑھتے ہوئے
میں بہت سے دلوں سے اترتی رہی
دوسروں کو میں مرہم لگاتے ہوئے
اپنے دل پر لگے زخم بھرتی رہی
عشق کرنا کسی اور کا کام تھا
میں کسی اور کا کام کرتی رہی
مجھ کو پوشیدہ رکھنی تھی سادہ دلی
سو میں حلیے سے بنتی سنورتی رہی
عشق مجھ کو بھی ہونے لگا تھا مگر
میں زمانہ کے ڈر سے مکرتی رہی
عشق کہنے کو دونوں طرف تھا مگر
وہ سمٹتا گیا میں بکھرتی رہی
سپنا مولچندانی







