کون و مکاں کی گرد میں لپٹے پڑے رہے
بھیجے تھے تم نے جو مجھے تحفے پڑے رہے
چاہا تھا جس طرح ہمیں مالک غفور نے
ہم لوگ اس جہان میں ویسے پڑے رہے
آسیب جن کو چھوڑ کے آیا تھا پچھلے گھر
ہجرت کے باوجود بھی پیچھے پڑے رہے
ہم بے بہا امیر تھے، دولت تھی، جب تلک
جیبوں میں تیری یاد کے سکے پڑے رہے
زین محکم








