27 جون, 2020

    تیرے ہوتے شام کو گر بزم میں آجائے شمع

    میر تقی میر کی ایک غزل
    11 جولائی, 2021

    گلاب سمجھا ہوا تھا جن کو وہ خار نکلے

    جاوید مہدی کی ایک اردو غزل
    29 ستمبر, 2019

    دل دکھوں کے حصار میں آیا

    عباس تابش کی ایک اردو غزل
    30 نومبر, 2019

    ہر کسی پر کھلا در سمجھ کر مجھے

    ایک اردو غزل از رفیق لودھی
    15 نومبر, 2020

    جب تک نگار دشت کا سینہ دکھا نہ تھا

    اردو غزل از بشیر بدر
    12 دسمبر, 2021

    نہیں کوئی اپنا زمین و زماں میں

    شہناز رضوی کی ایک اردو غزل
    21 جون, 2026

    ملوں گا جب بھی خود سے

    سلیم فگار کی ایک اردو غزل
    15 جنوری, 2020

    قریۂ جاں میں کوئی پھُول کھِلانے آئے

    پروین شاکر کی ایک اردو غزل
    10 مئی, 2020

    وصال گھڑیوں میں ریزہ ریزہ بکھر رہے ہیں

    ایک اردو غزل از حسن عباس رضا
    6 جولائی, 2025

    یہ ہرگز نہیں کہ محبت

    سعید سعدی کی ایک اردو غزل
    24 جنوری, 2020

    بےسبب ہی بڑھائی بات اس نے

    منزّہ سیّد کی ایک اردو غزل
    23 مئی, 2020

    مرے اندر روانی ختم ہوتی جا رہی ہے

    احمد خیال کی اردو غزل
    28 جنوری, 2020

    جُستجُو کے کسی جہان میں ہے

    ایک اردو غزل از محمود کیفی
    26 جون, 2025

    کیوں ہچکچا رہے ہیں

    ذیشان احمد خستہ کی ایک اردو غزل
    19 مئی, 2020

    اَب کہاں غم شناس ہے میرا

    ایک اردو غزل از ناصر ملک

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button