1 جنوری, 2023

    چاہے جتنا بھی پٹک لے سر کوئی

    غزل بقلم محمد ولی اللّٰہ ولی
    11 جولائی, 2021

    کیا کروں اے خدا نہیں جاتا

    جاوید مہدی کی ایک اردو غزل
    20 جون, 2020

    یا رب ہے بخش دینا بندے کو کام تیرا

    داغ دہلوی کی اردو غزل
    26 مئی, 2020

    خوشیوں پہ وبالوں کا گماں ہونے لگا ہے

    فرزانہ نیناں کی اردو غزل
    30 مئی, 2020

    زندگی تجھ کو مناؤں کب تلک

    ناہید ورک کی اردو غزل
    23 مئی, 2020

    میں وحشت و جنوں میں تماشا نہیں بنا

    احمد خیال کی اردو غزل
    26 اکتوبر, 2025

    صحرائے بے نوا سے یہ آیا مجھے پیام

    فرید احمد کی ایک اردو غزل
    12 جنوری, 2020

    درد ہلکا ہے سانس بھاری ہے

    گلزار کی ایک اردو غزل
    26 جون, 2020

    رہا میں تو عزت کا اعزاز کرتا

    میر تقی میر کی ایک غزل
    14 مئی, 2020

    وہ جو لوگ اہل کمال تھے وہ کہاں گئے

    خورشید رضوی کی ایک اردو غزل
    23 نومبر, 2019

    گرد ہوں یا غبار ہوں کیا ہوں

    بہادر شاہ ظفر کی اردو غزل
    14 اپریل, 2020

    جھلستی دھوپ میں مجھ کو جلا کے مارے گا

    زبیر قیصر کی ایک اردو غزل
    29 نومبر, 2019

    کسی شام چپکے سے در آئے گا

    انور شعورکی ایک اردو غزل
    7 دسمبر, 2025

    وسعت ہے دل میں اتنی

    فیاض ڈومکی کی ایک اردو غزل
    26 جون, 2020

    بنی تھی کچھ اک اس سے مدت کے بعد

    میر تقی میر کی ایک غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button