15 دسمبر, 2019

    کبھی بدن کبھی بستر بدل کے دیکھا ہے

    ملک عتیق کی ایک غزل
    26 دسمبر, 2024

    ایسے جیسے اک مدت کے

    فرح گوندل کی ایک اردو غزل
    20 نومبر, 2019

    شرح فراق مدح لب

    ایک اردو غزل از فیض احمد فیض
    16 جنوری, 2020

    غمِ الفت مرے چہرے سے

    شکیب جلالی کی ایک اردو غزل
    28 نومبر, 2019

    بتائیں ہم تمہارے عارض و کاکُل کو کیا سمجھے

    غزل از اسداللہ خان غالب
    18 مارچ, 2026

    ہاتھ میں جام ہے دل کو آرام ہے

    شاہ دل شمس کی ایک اردو غزل
    18 دسمبر, 2019

    چھپ کے اس نے جو خود نمائی کی

    حسرت موہانی کی ایک اردو غزل
    22 جون, 2020

    تو قادر مطلق ہے یہی وصف ہے کم کیا

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    25 جون, 2020

    دل دفعتہ جنوں کا مہیا سا ہو گیا

    میر تقی میر کی ایک غزل
    15 فروری, 2026

    سانس کی دھار ذرا گھستی ذرا کاٹتی ہے

    سعید شارق کی ایک اردو غزل
    15 نومبر, 2020

    سر پہ سایہ سا دست دعا یاد ہے

    اردو غزل از بشیر بدر
    5 جنوری, 2025

    ہم اپنی دھن میں مگن لوگ

    ممتاز گورمانی کی ایک اردو غزل
    20 نومبر, 2019

    ستم سکھلائے گا

    ایک اردو غزل از فیض احمد فیض
    26 جون, 2020

    وہ جو کشش تھی اس کی طرف سے کہاں ہے اب

    میر تقی میر کی ایک غزل
    23 اپریل, 2022

    تبدیلئ مزاج کو آب و ہوا ملے

    ایک اردو غزل از شہلا خان

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button