آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریلطیف ساجد

کسی کے پاس کوئی دوسری مثال نہیں

لطیف ساجد کی ایک اردو غزل

کسی کے پاس کوئی دوسری مثال نہیں
یہ کائنات کسی ہاتھ کا کمال نہیں

ہم اہلِ مصر نہیں ہیں حضور سندھی ہیں
ہمارے قحط کی میعاد سات سال نہیں

ملنگ خود پہ ضرورت کا بوجھ لادے ہوئے
زمین پیٹ رہے ہیں کوئی دھمال نہیں

اٹھارہ سال سے بھوکی ہے اور پیاسی بھی
ہمارے دل میں اداسی کا کوئی حال نہیں

جنوب پشت پہ لادے ہوئے کھڑا ہوں مگر
عجب ہے اب بھی مرے سامنے شمال نہیں

ہمارے جسم عقیدت میں گوتمی ہیں ہمیں
ضرورتوں کے تصادم کا احتمال نہیں

ہم ایسے چند خرابوں کو دیکھ کر ساجد
کہا گیا تھا عناصر میں اعتدال نہیں

لطیف ساجد

post bar salamurdu

لطیف ساجد

لطیف ساجد پانچ اگست انیس سو اسی کو ونیکے تارڑ حافظ آباد میں پیدا ہوئے، دو ہزار ایک میں بطورِ سولجر آرمی میں بھرتی ہوئے دو ہزار تین میں کمانڈو کورس کے بعد ایس ایس جی چلے گئے تین سال صدر پرویز مشرف کی پرسنل سیکورٹی میں ڈیوٹی کے یو این مشن افریقہ چلے گئے ریٹائرمنٹ کے بعد حافظ آباد ذاتی کاروبار کر رہے ہیں،بچپن سے شعر کہہ رہے ہیں دو ہزار اکیس میں پہلا شعری مجموعہ دعا زاد کے نام شائع ہوا جس شمار دور حاضر کے اہم شعری مجموعوں میں ہوتا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button