آپ کا سلاماحمد کامراناردو غزلیاتشعر و شاعری

خواب یوں ہی نہیں ہوتے پورے

احمد کامران کی اردو غزل

خواب یوں ہی نہیں ہوتے پورے

جان و تن لگتے ہیں پورے پورے

راس آئے گی محبت اس کو

جس سے ہوتے نہیں وعدے پورے

چھوڑ آئے ترے حصے کے دوست

ہم نے منظر نہیں دیکھے پورے

گفتگو ہوش ربا ہے اس کی

اس کی باتیں ہیں صحیفے پورے

ہجر اور رات تقابل میں ہیں

اشک پورے کہ ستارے پورے

یاد ہوں آدھا سا خود کو احمدؔ

نقش آئینے میں کب تھے پورے

احمد کامران 

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button