5 فروری, 2020

    یہ جنگ کا جو کھیل ہے رچا ہوا عجیب ہے

    ڈاکٹرمحمد الیاس عاجز کی ایک اردو غزل
    25 جنوری, 2020

    سیاہی گرتی رہے

    شاہین عباس کی ایک اردو غزل
    20 ستمبر, 2019

    اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا

    مومن خان مومن کی ایک عمدہ غزل
    24 جنوری, 2020

    راستوں میں رہے نہ گھر میں رہے

    ایک اردو غزل از نوشی گیلانی
    6 جولائی, 2025

    ایسی تنہائی

    شفاء اعجاز کی ایک اردو غزل
    13 جنوری, 2021

    چاند

    ایک اردو غزل از ریحانہ علی
    11 مئی, 2020

    دوش دیتے رہے بیکار ہی طغیانی کو

    اظہر فراغ کی ایک اردو غزل
    10 اکتوبر, 2025

    دل کا لہو چراغ وفا میں جلائیے

    منزہ انور گوئندی کی ایک اردو غزل
    3 دسمبر, 2019

    آنے لگا ہے اپنی حقیقت سے

    حفیظ جالندھری کی اردو غزل
    30 جون, 2020

    ہم نہ کہتے تھے رہے گا ہم میں کیا یاں سے گئے

    میر تقی میر کی ایک غزل
    31 جولائی, 2022

    دیکھا نہیں جاتا مرے سردار تماشا

    افتخار شاہد کی ایک غزل
    20 جون, 2020

    دل کے ہر داغ کو غنچہ کہیے

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    27 جون, 2025

    اپنے محور سے ہٹ رہا ہوں میں

    محمد علی سوزؔ کی ایک اردو غزل
    14 مئی, 2020

    نذرِ آلام ہوئے جاتے ہیں

    سمیر شمس کی اردو غزل
    10 فروری, 2021

    ذکرِ ہُو روشنی ہے، بحث نہ کر

    ناہید ورک کی اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button