25 اکتوبر, 2025

    حاصلِ جذبِ دُروں سے واصلِ مطلوب تک

    شاہ محمود جامؔی کی ایک اردو غزل
    18 اکتوبر, 2025

    ساحل ملا تو موج بلا ڈھونڈتے رہے

    منزہ انور گوئندی کی ایک اردو غزل
    30 اپریل, 2020

    دیپِ اُلفت مجھے جلانا ہے

    ڈاکٹر الیاس عاجز کی ایک غزل
    25 اکتوبر, 2025

    ہم نے دشتِ شوق میں یوں

    شاہ محمود جامؔی کی ایک اردو غزل
    8 جنوری, 2019

    ساقی خم خانہ تھا جو صبح و شام

    اسماعیلؔ میرٹھی کی ایک اردو غزل
    21 جون, 2020

    آپ کی یا جہاں کی بات کریں

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    7 اکتوبر, 2025

    ہوا کے دوش پہ بادل بنا کے

    سیدہ صائمہ کامران کی ایک اردو غزل
    17 مئی, 2020

    منزل کی چاہ کی تَو فقط راستہ مِلا

    سمیر شمس کی اردو غزل
    13 جنوری, 2026

    لب و رخسار و جبیں سے ملئے

    ابن صفی کی ایک اردو غزل
    27 جون, 2020

    کب تک بھلا بتائوگے یوں صبح و شام روز

    میر تقی میر کی ایک غزل
    26 دسمبر, 2024

    آوازوں کے شور سے

    فرح گوندل کی ایک اردو غزل
    26 دسمبر, 2024

    ضروری تھا مگر

    فرح گوندل کی ایک اردو غزل
    12 جنوری, 2022

    یہ زمیں جو ثقافت میں زرخیز تھی

    ایک اردو غزل از منیر جعفری
    23 مئی, 2020

    اسے اک اجنبی کھڑکی سے جھانکا

    احمد خیال کی اردو غزل
    14 مئی, 2024

    یا خود پی یا پلا کے دیکھ

    ناصر زملؔ کی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button