آپ کا سلاماردو غزلیاتسردار حماد منیرشعر و شاعری
کسی نے کچھ نہیں کھانا
سردار حماد منیر کی ایک اردو غزل
کسی نے کچھ نہیں کھانا فقط پرہیز کرنی ہے
کسی کو دل نہ دِکھلانا فقط پرہیز کرنی ہے
سنو ، اچھا نہیں ملنا ملانا حسن والوں سے
ہمیں اب یہ نہ سمجھانا فقط پرہیز کرنی ہے
بہت مشکل سے بھولا ہوں میں اس دردِ محبت کو
مجھے تم پھر نہ الجھانا فقط پرہیز کرنی ہے
نہ وہ گرمی محبت کی رہی دونوں میں اب باقی
نہ وہ شمع نہ پروانہ فقط پرہیز کرنی ہے
کسے تم مے پلاؤ گے بھری محفل میں اے ساقی
رہا مخلص نہ رندانہ فقط پرہیز کرنی ہے
بڑی ہی مطلبی دنیا ہے آنکھیں کھول کر چلنا
کوئی اپنا ہو بیگانہ فقط پرہیز کرنی ہے
وہاں کے شیخ و واعظ بھی سدا مدہوش رہتے ہیں
جہاں کھلتا ہے میخانہ فقط پرہیز کرنی ہے
بڑی گنجان رائے ہیں مگر بستا نہیں حامیؔ
ہمارے دل کا ویرانہ فقط پرہیز کرنی ہے
محبت اب نہیں کرنی کسی سے بھی تمہیں حامیؔ
کوئی کتنا ہو دیوانہ فقط پرہیز کرنی ہے
سردار حمادؔ منیر








