کسی کو ڈھونڈتے پھرنا محبت
سردار حماد منیر کی ایک اردو غزل
کسی کو ڈھونڈتے پھرنا محبت کی نگاہوں سے
کسی کا پوچھتے پھرنا درختو سے ہواؤں سے
ملاقاتوں سے حامیؔ ہر طرح وہ جی چراتے تھے
حساب اپنا چکاؤں گا میں ایسے بے وفاؤں سے
نگاہِ حسن و الفت سے نہیں دیکھا کبھی ہم کو
اسی کارن یہ برساتیں ہیں میری ان نگاہوں میں
ادا ہر ایک جادو تھی مرے محبوب کی لیکن
تبسم تو سحر تھا میرے دلبر کی اداؤں میں
مجھے مایوس کیوں کر پائیں ، گی دشواریاں راہ کی
میں جا پہنچوں گا منزل تک مری ماں کی دعاؤں سے
سبھی کو پیار ہوتا ہے سبھی دعوے تو کرتے ہیں
کوئی ماں ، باپ سا مخلص کہاں ان پیشواؤں میں
ابھی گرمی کا موسم ہے میں گھر سے دور ہوں لیکن
مری امّی یہ چاتی ہیں رہوں میں ٹھنڈے گاؤں میں
میں جب بھی گھر کو لوٹا ہوں تو یارو مینے دیکھا ہے
مری ماں مضطرب آ بیٹھتی ہے میری راہوں میں
ہمیں محروم مت کرنا خدایا اِن کے سائے سے
نزع کا وقت ہو میرا مرے والد کی باہوں میں
بڑھاپے تک یہ لڑتے ہیں جہاں سے تیری ہی خاطر
یہ خود دن بھر تو جلتے ہیں ہمیں رکھتے ہیں چھاؤں میں
یہی حامیؔ ہیں دنیا میں تری جنت کے دروازے
پلٹ آ کوئی بھی مخلص نہیں ان بے وفاؤں میں
سردار حمادؔ منیر








