- Advertisement -

دیپِ اُلفت مجھے جلانا ہے

ڈاکٹر الیاس عاجز کی ایک غزل

دیپِ اُلفت مجھے جلانا ہے
نفرتوں کو بھی اب مٹانا ہے

ختم ہونگےوہ روگ جن میں اک
ہجر کا درد بھی پرانا ہے

اب ضروری ہے وصلِ جانِ جاں
قربتوں کو بہت بڑھانا ہے

ڈر نہیں اب رقیبِ اُلفت کا
عشق میں سربھی اب کٹانا ہے

لوگ پانی سے ڈر گٸے مجھ کو
بحرِ آتش گزر کے جانا ہے

کر بلا کے شہیدؓ کو میں نے
مشعَلِ راہ اپنا مانا ہے

اب اُسی اک حسینؓ کے جیسے
سر مجھے نیزے پہ چڑھانا ہے

ڈاکٹر محمد الیاس عاجز

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
مصطفیٰ خان شیفتہ کی ایک اردو غزل