آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریلطیف ساجد
کسی دن کام آ جائے گی استادی ہماری
لطیف ساجد کی ایک اردو غزل
کسی دن کام آ جائے گی استادی ہماری
ہمارے نام ہو جائے گی شہزادی ہماری
ہماری گوتمی زنبیل سے دنیا اٹھاؤ
محبت دیکھنے آئی ہے بربادی ہماری
پہاڑی لڑکیاں ہیں ایک دن پوچھے بنا ہی
کسی انجان سے ہو جائے گی شادی ہماری
ہمارے ہاتھ کے پالے ہوئے لشکر ہمارے
ہمیں سے چھیننے آئے ہیں آزادی ہماری
اُسے گا کر سنایا رام اور سیتا کا قصہ
بالآخر دیوداسی ہو گئی عادی ہماری
مسلسل کٹ رہی ہے بٹ رہی ہے گھٹ رہی ہے
درندوں میں گِھری جنت نما وادی ہماری
یہاں سے دور جائیں اور اندازہ لگائیں
کہاں تک زندگی ہے غیر میعادی ہماری
پکڑ کر انگلیاں ساجد ہمیں چلنا سکھایا
سدا رحمت کے سائے میں رہے دادی ہماری
لطیف ساجد








