25 جون, 2020

    ستم سے گو یہ ترے کشتۂ وفا نہ رہا

    میر تقی میر کی ایک غزل
    16 دسمبر, 2019

    اور تو پاس مرے ہجر میں کیا رکھا ہے

    حسرت موہانی کی ایک اردو غزل
    19 اکتوبر, 2025

    جب اس زلف کی بات چلی

    خاطر غزنوی کی ایک اردو غزل
    12 اکتوبر, 2025

    خودی کے سمندر میں پتھرا گئی ہوں

    نسیم شاہانہ کی ایک اردو غزل
    26 جون, 2020

    رکھتا تھا ہاتھ میں سررشتہ بہت سینے کا

    میر تقی میر کی ایک غزل
    10 اکتوبر, 2025

    ڈھونڈنے نت نئے نگر مجھ میں

    ایک اردو غزل از فرحانہ عنبر
    9 جون, 2020

    فرار

    ساحرؔ لدھیانوی کی اردو نظم
    6 جنوری, 2023

    ترے در پہ یہ سر جھُکا ہے

    غزل بقلم محمد ولی اللّٰہ ولی
    27 جون, 2020

    رکھا کر اشک افشاں چشم فرصت غیر فرصت میں

    میر تقی میر کی ایک غزل
    1 جنوری, 2023

    بہت کی ہے میں نے بھی بخت آزمائی

    غزل بقلم محمد ولی اللّٰہ ولی
    28 مئی, 2024

    رستے میں شام ہو گئی

    فہیم شناس کاظمی کی ایک اردو غزل
    14 نومبر, 2021

    منافقت کی سنَد ہے ہمارے یار کے پاس

    ایک اردو غزل از علی زیرک
    13 نومبر, 2025

    تُمہارے نام لگا دی ہیں

    ایک اردو غزل از رشید حسرت
    28 جون, 2020

    کھینچے جہاں تو تیغ جلادت کے واسطے

    میر تقی میر کی ایک غزل
    21 جون, 2020

    میکشوں میں وہ اضطراب نہیں

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button