یہ شاعری ہے تو کافی جدید لاؤں گا
میں نظم سے بھی غزل کو کشید لاؤں گا
تری طرح نہیں آتی مشاعرے بازی
کہ داد کے لیئے غزلیں خرید لاؤں گا
تو یہ سمجھتا ہے لہجے میں میرے تلخی ہے
تو میرے یار یہ لہجہ مزید لاؤں گا
میں چاہتا ہوں زمانہ مرا مرید بنے
بنا کے خود کو تمہارا مرید لاؤں گا
یہ چاہتا ہوں کہ میں "میں ” کے شر سے بچ جاں
میں کر کے اپنی انا کو شہید لاؤں گا
گزر گئی ہے تو کیا ہے پلٹ بھی سکتی ہے
میں خود کو بیچ کے بچوں کی عید لاؤں گا
میں دیکھنے کی تمنا میں گم ہوا دوشی
نظر سے جو بھی ہوا ہے بعید لاؤں گا
ایم اے دوشی








