خود سے شرمندہ ہیں نادم ہیں گنہگار ہیں ہم
ایک غرقاب ہوئی ناؤ کی پتوار ہیں ہم
تم جو کہتے ہو کہ باقی نہ رہے اہلِ دل
زخم بیچوگے چلو بیچو خریدار ہیں ہم
خاکِ مرقد بھی تبرُّک لی طرح لے گئے لوگ
رسن ودار تو کہتے تھے گنہگار ہیں ہم
ہم کہانی میں کسی طور بھی موجود نہیں
اور غلط فہمی یہ ہے مرکزی کردار ہیں ہم
کیسے تاریخ فراموش کرے گی ہم کو
تیغ پر خون سےلکھّا ہُوا انکار ہیں ہم
ایک مدت سے یہ منظر نہیں بدلا طارق
وقت اس پار ہےٹھہرا ہوا اس پار ہیں ہم
طارق قمر








