23 اپریل, 2020

    ٹُوٹنے پر کوئی آئے تو پھر ایسا ٹُوٹے

    جواد شیخ کی ایک اردو غزل
    28 دسمبر, 2019

    شاید اس طرح گذشتہ کی تلافی ہو جائے

    سعود عثمانی کی ایک اردو غزل
    21 جون, 2020

    وہ نظر آئنہ فطرت ہی سہی

    اقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    9 مئی, 2020

    کب مری حلقہِ وحشت سے رہائی ہوئی ہے

    مبشر سعید کی ایک اردو غزل
    3 مئی, 2020

    آپ سے انس ہوا چاہتا ہے

    ایک اردو غزل از افروز عالم
    19 مئی, 2020

    جب سے تشنہ اُس دہلیز سے پلٹی ہیں

    ایک اردو غزل از ناصر ملک
    3 جولائی, 2025

    کہاں پہ بولنا ہے

    غنی الرحمٰن انجم کی ایک اردو غزل
    7 دسمبر, 2025

    وسعت ہے دل میں اتنی

    فیاض ڈومکی کی ایک اردو غزل
    18 مئی, 2020

    سو اب دیوار کے اندر سے پھر اک در نکالوں گی

    ایک اردو غزل از سیدہ فرح شاہ
    2 نومبر, 2025

    یہیں گرد و نواح میں گونجتی ہے

    شاہد ماکلی کی ایک اردو غزل
    1 دسمبر, 2019

    سیلاب سچ ہے اور در و دیوار خوب ہیں

    شاہد ذکی کی ایک اردو غزل
    28 جون, 2020

    میر ایک دم نہ اس بن تو تو جیا پیارے

    میر تقی میر کی ایک غزل
    28 جنوری, 2020

    ترے بعد جو خلا ہے

    ایک اردو غزل از اویس خالد
    12 اکتوبر, 2025

    کئی اسرار ہوتے ہیں

    نسیم شاہانہ کی ایک اردو غزل
    22 جنوری, 2025

    کر دے نہ تیری جستجو

    منزّہ سیّد کی ایک غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button