3 جولائی, 2025

    تمہیں اظہار کی جرات نہیں ہے

    غنی الرحمٰن انجم کی ایک اردو غزل
    16 جنوری, 2020

    دوستو پانی کبھی رکتا نہیں

    شکیب جلالی کی ایک اردو غزل
    30 جون, 2020

    شور میرے جنوں کا جس جا ہے

    میر تقی میر کی ایک غزل
    28 نومبر, 2019

    کروں شکوہ تو بے وسواس

    میر حسن کی اردو غزل
    27 جون, 2025

    زمانہ اُس کا ہے

    محمد علی سوزؔ کی ایک اردو غزل
    29 نومبر, 2019

    نہ سہ سکوں گا غمِ ذات گو اکیلا میں

    انور شعورکی ایک اردو غزل
    7 نومبر, 2019

    ارض و سما کہاں تری وسعت

    خواجہ میر درد کی ایک غزل
    2 جنوری, 2020

    نظام شام و سحر سے مفر بھی ہے کہ نہیں

    سعود عثمانی کی ایک اردو غزل
    8 جون, 2020

    سرزمینِ یاس

    ساحرؔ لدھیانوی کی اردو نظم
    8 مئی, 2020

    کبھی کبھی تو نہ ہوگی کبھی ہوا کرے گی

    دانش نقوی کی ایک اردو غزل
    25 جون, 2020

    تیغ لے کر کیوں تو عاشق پر گیا

    میر تقی میر کی ایک غزل
    1 فروری, 2020

    مری خطا کہ تجھے بار بار سوچا تھا

    سمیر شمس کی اردو غزل
    29 جون, 2020

    درونے کو کوئی آہوں سے یوں کب تک ہوا دیوے

    میر تقی میر کی ایک غزل
    20 جون, 2020

    زیست پر میں ہوں گراں یا تو ہے

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    22 جون, 2020

    ایسا وار پڑا سر کا

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button