آپ کا سلاماردو غزلیاتسلیم فگارشعر و شاعری
نسبت و نام سے ہم آگے نکل جاتے ہیں
سلیم فگار کی ایک اردو غزل
نسبت و نام سے ہم آگے نکل جاتے ہیں
ان در و بام سے ہم آگے نکل جاتے ہیں
واہمے، سود و زیاں روند کے سب پیروں تلے
دل کے ابہام سے ہم آگے نکل جاتے ہیں
زندگی ہاتھ پکڑ لے جو مرا آج کی شام
بحرِ ہنگام سے ہم آگے نکل جاتے ہیں
تشنگی تیرے تسلسل کا مزہ قائم ہے
آج بھی جام سے ہم آگے نکل جاتے ہیں
ڈھلتی دوپہر نے پیغام دیا میرے لیے
آؤاس شام سے ہم آگے نکل جاتے ہیں
رک کے سنتے نہیں لفظوں میں بھرے معنی کو
اصل پیغام سے ہم آگے نکل جاتے ہیں
سلیم فگار








