5 اپریل, 2020

    بڑی مشکل کہانی تھی مگر انجام سادہ ہے

    ذوالفقار عادل کی ایک اردو غزل
    20 جون, 2020

    آواز جرس ہے یا فغان ہے

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    22 جون, 2020

    مرحلہ دل کا نہ تسخیر ہوا

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    20 جون, 2020

    عجب اپنا حال ہوتا، جو وصال یار ہوتا

    داغ دہلوی کی اردو غزل
    28 مئی, 2020

    مجھے بھی علم نہیں تھا میں شعر کہتا تھا

    بہنام احمد کی ایک اردو غزل
    19 دسمبر, 2019

    زلفوں کی گھٹائیں پی جاؤ

    ایک اردو غزل از ساغر صدیقی
    21 جون, 2020

    اشکوں میں خیال ڈھل رہے ہیں

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    19 مئی, 2020

    رِدائے شب نہیں رہی

    ایک اردو غزل از ناصر ملک
    21 مئی, 2020

    ابتداء اور انتہا تها میں

    ڈاکٹر اسد نقوی کی ایک اردو غزل
    30 نومبر, 2019

    سفر سفر میں چلیں گے ،ترا خیال اور میں

    ایک اردو غزل از رفیق لودھی
    21 جون, 2020

    دل کے لئے حیات کا پیغام بن گئیں

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    25 جون, 2020

    ایک دل کو ہزار داغ لگا

    میر تقی میر کی ایک غزل
    9 نومبر, 2025

    نالۂ نا رسا کی خوشبو ہوں

    نمرہ علی کی ایک اردو غزل
    18 جنوری, 2025

    انہیں یہ خوف کہ زلفوں میں

    ممتاز گورمانی کی ایک اردو غزل
    27 فروری, 2025

    اب بھی خاموش اگر ھو

    عدنان اثر کی ایک غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button