27 جون, 2020

    نہ میرے باعث شور و فغاں ہو

    میر تقی میر کی ایک غزل
    16 اکتوبر, 2025

    ملے تھے دشت کئی قہقہہ لگاتے ہوئے

    اظہر عباس خان کی ایک اردو غزل
    14 مئی, 2020

    نذرِ آلام ہوئے جاتے ہیں

    سمیر شمس کی اردو غزل
    28 اکتوبر, 2020

    بیمار شخص کا بھی بھلا کیا وجود ہے

    ناہید ورک کی اردو غزل
    15 مئی, 2020

    کبھی سوچا نہ ہی سمجھا نہ سمجھداری کی

    ایک اردو غزل از صغیر احمد صغیر
    25 جنوری, 2026

    دلِ بے خبر تجھے کیا خبر

    سردار حماد منیر کی ایک اردو غزل
    25 جنوری, 2020

    اب وہ خود محوِ علاج

    شکیل بدایونی کی ایک اردو غزل
    5 اپریل, 2020

    شام کے سائے جلتے رہیں گے

    شجاع شاذ کی ایک اردو غزل
    23 نومبر, 2019

    نہیں عشق میں اس کا تو رنج ہمیں

    بہادر شاہ ظفر کی اردو غزل
    18 دسمبر, 2019

    وہ جو اپنے مکان چھوڑ گئے

    جون ایلیا کی ایک غزل
    5 جنوری, 2020

    کیسی اُفتاد آپڑی دل پر

    آسناتھ کنول کی ایک اردو غزل
    30 جون, 2020

    دل مرا مضطرب نہایت ہے

    میر تقی میر کی ایک غزل
    19 مارچ, 2022

    جن دنوں مجھ کو بہت پیار ہوا کرتا تھا

    ایک اردو غزل از عمر اشتر
    23 جنوری, 2020

    ہر اک منظر بھگونا چاہتی ہے

    ایک اردو غزل از عزیز نبیل
    16 دسمبر, 2021

    آج میرا خیال؟ یا حضرت

    محمد رضا نقشبندی کی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button