20 جون, 2020

    کیسا رستہ ہے کیا سفر ہے

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    15 اپریل, 2020

    وہ تو میرے پاس ہے مرے دل

    شجاع شاذ کی ایک اردو غزل
    28 جون, 2020

    آج کچھ بے حجاب ہے وہ بھی

    میر تقی میر کی ایک غزل
    16 دسمبر, 2019

    کس کی گھات میں

    اردو غزل از مجید امجد
    5 جنوری, 2020

    وہ دل نواز ہے لیکن نظر شناس نہیں

    ایک اردو غزل از ناصر کاظمی
    28 جنوری, 2020

    ترے بعد جو خلا ہے

    ایک اردو غزل از اویس خالد
    28 جون, 2020

    متاع دل اس عشق نے سب جلا دی

    میر تقی میر کی ایک غزل
    19 ستمبر, 2020

    بڑھتے بڑھتے سوز ِدل آہ و فغاں ہونے لگا

    عشبہ تعبیر کی ایک اردو غزل
    9 مارچ, 2020

    آج آرائش گیسوئے دوتا ہوتی ہے

    غزل از اکبر الہ آبادی
    30 نومبر, 2019

    فلک کو چھونے کی حسرت میں بٹ گئے ہم لوگ

    ایک اردو غزل از رفیق لودھی
    28 جون, 2020

    لائق نہیں تمھیں کہ ہمیں ناسزا کہو

    میر تقی میر کی ایک غزل
    21 مئی, 2020

    اب لطف و بے خودی کے وہ موسم نہیں رہے

    سعید خان کی اردو غزل
    23 مئی, 2020

    پھر سے دل کے آسماں پر حیرتوں کا در کھلا

    آسناتھ کنول کی ایک اردو غزل
    20 مئی, 2020

    رات کے پچھلے پہر

    ایک اردو غزل از ناصر ملک
    8 مارچ, 2025

    کسی روشنی پہ بھی اعتماد

    ضمیر قیس کی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button