اردو غزلیاتباقی صدیقیشعر و شاعری

وہ پو پھٹی، وہ سحر آئی، رات ختم ہوئی

باقی صدیقی کی ایک اردو غزل

وہ پو پھٹی، وہ سحر آئی، رات ختم ہوئی
پھر ایک بات چھڑی، ایک بات ختم ہوئی

رہ حیات کے ہر موڑ پر یہ غم توبہ
ابھی حیات، ابھی کائنات ختم ہوئی

مریض عشق نے لو شرح زندگی کر دی
چھڑی تھی آہ سے، ہچکی پہ بات ختم ہوئی

مرے جنوں ہی نے بحث حیات چھیڑی تھی
مرے جنوں ہی پہ بحث حیات ختم ہوئی

ہمیں نے عشق کیا اختیار جب باقیؔ
جہاں سے رسم و رہ التفات ختم ہوئی

باقی صدیقی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button