15 مئی, 2020

    وہ جیسے کوہساروں میں ہوا رستہ بناتی ہے

    ایک اردو غزل از صغیر احمد صغیر
    20 جون, 2020

    اہل دل فرمائیں کیا درکار ہے

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    28 مئی, 2024

    زمین پر نہ رہے آسماں کو چھوڑ دیا

    فہیم شناس کاظمی کی ایک اردو غزل
    5 جنوری, 2020

    وہ دل نواز ہے لیکن نظر شناس نہیں

    ایک اردو غزل از ناصر کاظمی
    3 دسمبر, 2019

    وہ ہوئے پردہ نشیں

    حفیظ جالندھری کی اردو غزل
    19 مارچ, 2022

    درد کا دیپ جلاتے ہیں

    ایک اردو غزل از عمر اشتر
    14 جون, 2020

    لفظ ابھی ایجاد ہوں گے ہر ضرورت کے لیے

    حفیظ ہوشیارپوری کی اردو غزل
    21 جون, 2020

    چھا کر دلوں پہ ان کی نظر مطمئن نہیں

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    3 مارچ, 2022

    سامان وہ رکھا ہے قرینے سے ہمارا

    شہزاد نیّرؔ کی ایک خوبصورت غزل
    17 جون, 2020

    وہ ہر مقام سے پہلے وہ ہر مقام کے بعد

    قابل اجمیری کی اردو غزل
    12 جنوری, 2020

    پتہ پتہ بوٹا بوٹا

    ایک اردو غزل از میر
    29 جون, 2020

    اس شوخ ستمگر کو کیا کوئی بھلا چاہے

    میر تقی میر کی ایک غزل
    21 جون, 2020

    موج ساحل سے جب جدا ہو گی

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    12 مارچ, 2020

    نظروں کی گفتگو کہیں تحریر تو نہیں

    ایک اردو غزل از منزّہ سیّد
    8 جون, 2020

    خانہ آبادی

    ساحرؔ لدھیانوی کی اردو نظم

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button