اردو غزلیاتباقی صدیقیشعر و شاعری

موج ساحل سے جب جدا ہو گی

باقی صدیقی کی ایک اردو غزل

موج ساحل سے جب جدا ہو گی
ایک طوفاں کی ابتدا ہو گی

مجھ سے پوچھو نہ داستاں میری
میری ہر بات ناروا ہو گی

مدعا خامشی تک آ پہنچا
اب نگاہوں سے بات کیا ہو گی

دل انوکھا چراغ ہے باقیؔ
بجھ کے بھی روشنی سوا ہو گی

باقی صدیقی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button