آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریعلی کوثر

کرب کی زنجیر سے

علی کوثر کی ایک اردو غزل

کرب کی زنجیر سے ایک دن رہا ہو جائیں گے
سارے منظر سارے چہرے سب فنا ہو جائیں گے

زندگی تیرے ستم سے تنگ آ جائیں گے ہم
اور اک دن اپنے اندر لاپتا ہو جائیں گے

اپنے ہونے کا یقین جس دن ہمیں ہو جائے گا
تیرے ہونے سے بھی اس دن آشنا ہو جائیں گے

ڈرتے ڈرتے آنکھ منظر تو بنا لے گی مگر
دیکھتے ہی دیکھتے سب بدنما ہو جائیں گے

چیخنے والوں کو ایک درویش نے پر سا دیا
دیکھنا ایک دن یہ سب نالے رسا ہو جائیں گے

علی کوثر

post bar salamurdu

علی کوثر

میرا تعلق گوجرانولہ سے ہے - میں ملازمت پیشہ ہوں اور بیکن ہاؤس سے منسلک ہوں -

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button