آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعرینبیل حاجب

جہاں بھی جاؤں میں اپنے شجر اگا لوں

نبیل حاجب کی ایک اردو غزل

جہاں بھی جاؤں میں اپنے شجر اگا لوں
مگر کسی کے شجر کی نہیں ہوا لوں گا

تو کیا ہوا ؟ کوئی رستہ نہیں بتاتا مجھے
تری طرف نئے رستے میں خود بنا لوں گا

ستارے میں نہیں لا سکتا آسماں سے مگر
تمہارے واسطے جگنو پکڑ کے پالوں گا

تم اپنا کام کرو قتل کر کے چلتے بنو
میں اپنی لاش کو خود راہ سے ہٹا لوں گا

نبیل حاجب

post bar salamurdu

نبیل حاجب

میرا تعلق حافظ آباد سے ہے ۔ اسلام آباد سے سلطانہ فاؤنڈیشن سے بی اے کی تعلیم حاصل کی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button