آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریعاجز کمال رانا

ویرانی کے بادل چھانے لگ گئے ہیں

عاجز کمال رانا کی ایک اردو غزل

ویرانی کے بادل چھانے لگ گئے ہیں
پنچھی اب اس گاؤں سے جانے لگ گئے ہیں

اس کو جب سے دیکھا مجھ کو ہوش نہیں
یارو میرے ہوش ٹھکانے لگ گئے ہیں

شہر سے آئے مجنوں نے اک بات کہی
اور دیوانے خاک اڑانے لگ گئے ہیں

ساقی تیرے ایک اشارہ کرنے پر
مے کش بھی اذان سنانے لگ گئے ہیں

ہم نے اب اک اور محبت کر لی ہے
آنکھوں کو پھر خواب دکھانے لگ گئے ہیں

اس شہر بے ذوق میں کس کا پیر پڑا
پیڑ پرندے شعر سنانے لگ گئے ہیں

عاجز کمال رانا

post bar salamurdu

عاجز کمال رانا

خوشاب, پاکستان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button