کون و مکان و خُلدِ بَریں دیکھتا ہوں مَیں
شاہ محمود جامؔی کی ایک اردو غزل
کون و مکان و خُلدِ بَریں دیکھتا ہوں مَیں
مخلوقِ کُل بہ رقصِ مُبیں دیکھتا ہوں مَیں
کس نورِ جاں فزا کا ظہورِ عظیم ہے
سجدے میں دو جہاں کی جَبیں دیکھتا ہوں میں
دنیا و آخِرَت بَخُدا گردشِ زماں
اُس آستاں سے آگے نَہیں دیکھتا ہوں مَیں
سرکارِ دو جہان کی کہتا ہوں نعت جب
ارض و سما کو پَہْلُو نَشِیں دیکھتا ہوں مَیں
اُس آستانِ خیر پہ سجدوں کے واسطے
ہر ایک بے قرار جَبیں دیکھتا ہوں مَیں
ہر سَمْت عاشِقانِ مُحَمَّد کی ہے بہار
مَنْظَر یہ آج کتنا حَسیں دیکھتا ہوں مَیں
پا کر درُونِ سینہ محبت حضور کی
دامَن میں اپنے گَنجِ ثَمیں دیکھتا ہوں مَیں
کرتا نہیں ہوں اُس کی مَیں ہَرگِز برابری
جس آدمی کو اُن کے قَریں دیکھتا ہوں مَیں
ہوتا ہے جس جگہ پہ مُحَمَّد کا ذکرِ خیر
جھکتا ہے میرا دل یہ وَہیں دیکھتا ہوں مَیں
کرتا ہوں ذکر جب کَہیں آلِ رَسُول کا
اِبْلِیس کو شِکَن بہ جَبیں دیکھتا ہوں مَیں
جس بزمِ ناز میں نہ ہو نعتِ رسولِ پاک
جامؔی کو تو وہاں پہ نَہیں دیکھتا ہوں مَیں
شاہ محمود جامؔی
سیالکوٹ پاکستان








