اردو غزلیاتسعید خانشعر و شاعری

جب کسی درد کو سہلاتے ہیں

سعید خان کی اردو غزل

جب کسی درد کو سہلاتے ہیں
کچھ نئے زخم نکل آتے ہیں

زیست وہ کربِ مسلسل ہے کہ ہم
سانس لینے سے بھی گھبراتے ہیں

بے وجہ اتنا بھی مت سوچا کر
وسوسے دل میں اتر جاتے ہیں

کیسا ماحول کہاں کی خوشبو
پھول کھلتے ہیں بکھر جاتے ہیں

ہم اُسے سوچنے بیٹھیں تو سعید
فاصلے خود ہی سمٹ جاتے ہیں

سعید خان

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button