آپ کا سلاماردو غزلیاتسلیم فگارشعر و شاعری

ملوں گا جب بھی خود سے

سلیم فگار کی ایک اردو غزل

ملوں گا جب بھی خود سے میں نظارہ کیا بنے گا
مرے دل میں سلگتا یہ شرارہ کیا بنے گا

مجھے سرگوشیوں میں دھوپ اکثر پوچھتی ہے
دعا کا پیڑ گٹ جائے ، تمہارا کیا بنے گا

خلا کی تیرگی کا فیض ہے یہ روشنی بھی
فلک کی آنکھ سے گر کر ستارہ کیا بنے گا

ہماری ہجرتوں کی فصل یوں اگتی رہی تو
سیہ بے مہر رستوں میں ہمارا کیا بنے گا

مری آنکھوں میں گرتے ہیں کئی خوابوں کے لاشے
سخن میں ایسے غم کا استعارہ کیا بنے گا

ہزاروں زلزلے طوفاں گھروں کو گھورتے ہیں
یہ بستی میں جو گھس آئے ہمارا کیا بنے گا

کبھی ہم گننے بیٹھے زندگی کے بیش و کم جو
ہمیں معلوم ہے دل کا خسارہ کیا بنے گا

جوپہلی بار میرا نقش پورا کر نہ پایا
سراپا اس سےمیرا اب دوبارہ کیا بنے گا

سلیم فگار

post bar salamurdu

سلیم فگار

السلام علیکم ! میرا پورا نام محمد سلیم ہے قلمی نام سلیم فگار ہے- تعلق جہلم سے ہے - میرے تین شعری مجموعے ہیں - ستارہ سی کوئی شام - سنِ اشاعت مارچ دو ہزار پندرہ- تغیر۔ سنِ اشاعت ستمبر دوہزار انیس- خواب کی اذیت میں۔ سنِ اشاعت جنوری دوہزار چھبیس-

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button