اس نے جب مجھ سے بچھڑنے کا ارادہ کر لیا
چھوڑنے کا تب اسے میں نے بھی وعدہ کر لیا
بھول کر ساری خطائیں اس حسیں جلاد کی
آزما کر ضبط کو دل بھی کشادہ کر لیا
ساری تصویریں لگا دیں سارے فیشن بھی کیے
تجھ سے بچھڑے تو سنوانا بھی زیادہ کر لیا
چھوڑ کے ساری دعائیں ترک کر کے سب علاج
ورد اسم یار ھی سے استفادہ کر لیا
جو میری نفرت کا بھی حقدار بن سکتا نہ تھا
پیار ایسے شخص سے حد سے زیادہ کر لیا
ساری شاخوں سے یہاں تسلیم پتے گر گئے
سارے پھولوں کو ھوا نے بے لبادہ کر لیا
تسلیم اکرام








