لگ کر گلے سے ہم ترے روئیں گے اور کیا
اشکوں کو کشتِ شام میں بوئیں گے اور کیا
جب ختم ہو گا جاگتی راتوں کا یہ سفر
سر پر زمین کھینچ کے سوئیں گے اور کیا
ہر ذرے کوسمیٹ کے لائے ہیں قبر تک
اپنے بدن کے بوجھ کو ڈھوئیں گے اور کیا!
گھر کے سوا بھی جائے اماں ہونی چاہئے
تیرے بدن میں خود کو سموئیں گے اور کیا
رکھا ہے اپنی آنکھ کا پانی سنبھال کر
دل پر لگی سیاہیاں دھوئیں گے اور کیا
یہ جو محبتوں کے سبھی دعوے دار ہیں
اک دن یہی بھنور میں ڈبوئیں گے اور کیا
اتنی طویل عمر کی خواہش نہیں فگار
چہرے کے رنگ و نقش ہی کھوئیں گے اور کیا
سلیم فگار








