آپ کا سلاماردو غزلیاتسلیم فگارشعر و شاعری

آنکھوں کو شبِ نور میں تنویم تو ہو نا

سلیم فگار کی ایک اردو غزل

آنکھوں کو شبِ نور میں تنویم تو ہو نا
کچھ ثروتِ رویا مجھے تقسیم تو ہو نا

ہر شخص کی آنکھوں میں یہی نوحہ لکھا ہے
اس عہد میں انسان کی تکریم تو ہو نا

شکوہ نہ کبھی طنز کی بارش مرے دل پر
پہلے یہ تعلق تمھیں تسلیم تو ہو نا

مجھ کو بھی ذرا عار نہیں ملنے میں لیکن
اس آدمی کی آنکھ میں تعظیم تو ہو نا

بے شک وہ کوئی پھول کوئی تخفہ نہ لائے
لہجے میں مگر تھوڑی سی تکریم تو ہو نا

پھرتی ہے لیے ہجر کی تلوار محبت
سینے کا یہ پتھر کبھی دونیم تو ہو نا

میں کیسے رکھوں سر پہ ابھی تاجِ شہی کو
وہ ماہِ مجسم مری اقلیم تو ہو نا

سلیم فگار

post bar salamurdu

سلیم فگار

السلام علیکم ! میرا پورا نام محمد سلیم ہے قلمی نام سلیم فگار ہے- تعلق جہلم سے ہے - میرے تین شعری مجموعے ہیں - ستارہ سی کوئی شام - سنِ اشاعت مارچ دو ہزار پندرہ- تغیر۔ سنِ اشاعت ستمبر دوہزار انیس- خواب کی اذیت میں۔ سنِ اشاعت جنوری دوہزار چھبیس-

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button