آپ کا سلاماردو غزلیاتسلیم فگارشعر و شاعری
اس کھیل میں ایسا مرا کردار نہیں تھا
سلیم فگار کی ایک اردو غزل
اس کھیل میں ایسا مرا کردار نہیں تھا
رستہ تھا سبھی کے لیے دیوار نہیں تھا
ہر چیز کہاں مجھ میں میسر تھی مرے دوست
انسان تھا میں شہر کا بازار نہیں تھا
آنکھوں میں خلا بھر کے یہی سوچ رہا ہوں
حالات سے اتنا کبھی لاچار نہیں تھا
آباد نہ تھے گاؤں کے پیڑوں میں پرندے
اس سانحے سے کوئی خبر دار نہیں تھا
وہ اس لیے بھی کود گیا ناؤ سے اپنی
دل اب کسی ساحل کا طلب گار نہیں تھا
ادراک مجھے دیتا ہے احساس کی سولی
مجھ سا بھی کوئی شخص سرِ دار نہیں تھا
سلیم فگار








