24 مارچ, 2020

    دل کے سمندروں کو نہ پایاب دیکھنا

    ایک اردو غزل از سعد اللہ شاہ
    26 جون, 2020

    رہ جائوں چپ نہ کیونکے برا جی میں مان کر

    میر تقی میر کی ایک غزل
    7 دسمبر, 2025

    کوئی تو اپنا ہو کوئی تو خیر خواہ نکلے

    فیاض ڈومکی کی ایک اردو غزل
    18 مئی, 2020

    نازو نعم ملے ہیں تو بگڑے ہوئے ہو، ہاں

    ایک اردو غزل از سیدہ فرح شاہ
    8 اپریل, 2020

    یہ عالم شوق کا دیکھا نہ جائے

    احمد فراز کی ایک اردو غزل
    3 نومبر, 2021

    تم جان اگر ہو تو رگ جاں بھی تم ہی ہو

    ایک اردو غزل از سیّدہ منوّر جہاں منوّر
    14 اپریل, 2020

    کیوں ترے ساتھ رہیں عمر بسر ہونے تک

    رحمان فارس کی ایک غزل
    23 مئی, 2020

    صبح کے روپ میں جب دیکھنے جاتی ہوں اسے

    فرزانہ نیناں کی اردو غزل
    17 جنوری, 2025

    بے سبب اچھے لگے تازہ گلاب

    منزّہ سیّد کی ایک غزل
    13 جون, 2020

    ہمِیں سے کرتا رہا گفتگو ہماری طرح

    کاشف حسین غائر کی ایک اردو غزل
    9 مارچ, 2020

    اپنے پہلو سے وہ غیروں کو اٹھا ہی نہ سکے

    غزل از اکبر الہ آبادی
    24 اکتوبر, 2025

    حالات نے ذرا بھی سنورنے نہیں دیا

    زبیر خیالی کی ایک اردو غزل
    13 جون, 2020

    کیا کہیں اَور دل کے بارے میں

    کاشف حسین غائر کی ایک اردو غزل
    6 دسمبر, 2025

    کی بہاروں سے خزاں نے

    ایک اردو غزل از رشید حسرت
    22 جون, 2020

    رنگ دل، رنگ نظر یاد آیا

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button