12 جنوری, 2020

    میں سادہ دل ہوں کہ رکھتا ہوں ایک ہی چہرہ

    ایک اردو غزل از سید انصر
    16 جنوری, 2020

    آگ کے درمیان سے نکلا

    شکیب جلالی کی ایک اردو غزل
    26 مئی, 2020

    خوشیوں پہ وبالوں کا گماں ہونے لگا ہے

    فرزانہ نیناں کی اردو غزل
    19 ستمبر, 2020

    مخلص نہیں ہیں آپ شکایت نہ کیجیے

    عشبہ تعبیر کی ایک اردو غزل
    20 ستمبر, 2020

    مکاں نہیں ہے تو کیا ہے مکین رکھتا ہوں

    شاہد عباس ملک کی ایک اردو غزل
    28 مارچ, 2022

    بھنور میں جتنے سہارے کھڑے دکھائی دیے

    صابر رضوی کی ایک اردو غزل
    2 نومبر, 2025

    ایک تتلی کے پر مارنے سے

    شاہد ماکلی کی ایک اردو غزل
    25 فروری, 2025

    یہی نہیں کہ ترا ضبط آزمانا تھا

    شہزین فراز کی ایک اردو غزل
    7 مارچ, 2022

    سب کے سب تیری عقیدت کے در نظر آئے

    زروا رائے کی ایک اردو غزل
    21 جون, 2020

    آنکھوں میں ہے سوالوں جوابوں کا سلسلہ

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    22 جون, 2020

    احساس زندگی کی کلی کھل گئی ہے پھر

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    21 جون, 2020

    بوئے خوں آتی ہے پیمانے سے

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    23 اپریل, 2020

    ٹُوٹنے پر کوئی آئے تو پھر ایسا ٹُوٹے

    جواد شیخ کی ایک اردو غزل
    30 جون, 2020

    انکھڑیوں کو اس کی خاطر خواہ کیونکر دیکھیے

    میر تقی میر کی ایک غزل
    7 دسمبر, 2025

    یار قصہ بڑا ہے پنجرے کا

    مظفرؔ ڈھاڈری بلوچ کی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button