1 دسمبر, 2019

    عجب روِش سے اُنھیں ہم گلے لگا کے ہنسے

    بہادر شاہ ظفر کی اردو غزل
    30 جون, 2020

    کبھو میر اس طرف آکر جو چھاتی کوٹ جاتا ہے

    میر تقی میر کی ایک غزل
    1 جون, 2020

    اگر مل سکے تو وفا چاہیے

    ناہید ورک کی اردو غزل
    18 جون, 2020

    دن چھپا اور غم کے سائے ڈھلے

    قابل اجمیری کی اردو غزل
    22 جنوری, 2020

    اپنے حالات سے ڈر جاتا ہوں

    ایک اردو غزل از عاصم ممتاز
    14 ستمبر, 2025

    تجھ سے بچھڑ کر آنکھوں کو

    اعتبار ساجد کی ایک اردو غزل
    28 جنوری, 2020

    اپنی طرف سے مجھ کو وہ برباد کر گیا

    ایک اردو غزل از اویس خالد
    30 جون, 2020

    چھاتی جلا کرے ہے سوز دروں بلا ہے

    میر تقی میر کی ایک غزل
    20 فروری, 2026

    زمانے بھر کا جو سارا دکھ ہے ہمارا دکھ ہے

    عاجز کمال رانا کی ایک اردو غزل
    23 مئی, 2020

    مٹی سے بغاوت نہ بغاوت سے گریزاں

    احمد کامران کی اردو غزل
    26 جون, 2020

    جو کہو تم سو ہے بجا صاحب

    میر تقی میر کی ایک غزل
    14 نومبر, 2021

    جھوٹ پر صاد کرنا پڑتا ہے

    ایک اردو غزل از علی زیرک
    16 جولائی, 2025

    تماش گاہ میں دیکھو

    محمد نعیم کی اردو غزل
    23 مئی, 2020

    دریا میں دشت دشت میں دریا سراب ہے

    احمد خیال کی اردو غزل
    28 مئی, 2024

    لہو کی لہر میں

    فہیم شناس کاظمی کی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button