27 جون, 2020

    حالانکہ کام پہنچ گیا کب کا جاں تلک

    میر تقی میر کی ایک غزل
    23 جون, 2025

    خود کو اتنا بھی طلب گار

    علمہ ہاشمی کی ایک اردو غزل
    27 فروری, 2020

    ہم پر ہے التفات ہمارے حبیب کا

    مصطفیٰ خان شیفتہ کی ایک اردو غزل
    3 دسمبر, 2020

    تمام شہر کو جو سچ ہوا بتاؤں گا

    ایک اردو غزل از صغیر احمد صغیر
    14 ستمبر, 2025

    چلا ہوا ہے الٹ ہی نظام رونے کا

    کومل جوئیہ کی ایک اردو غزل
    19 مئی, 2020

    رِدائے شب نہیں رہی

    ایک اردو غزل از ناصر ملک
    5 جولائی, 2025

    جو بے رخی ہوئی

    احمد ابصار کی ایک اردو غزل
    6 جولائی, 2025

    تمام رات مرے گھر

    محمد حذیفہ جلال کی ایک اردو غزل
    29 جون, 2020

    ایک سمیں تم ہم فقرا سے اکثر صحبت رکھتے تھے

    میر تقی میر کی ایک غزل
    10 مئی, 2020

    ہم پریوں کے چاہنے والے خواب میں دیکھیں پریاں

    ایک اردو غزل از حسن عباس رضا
    8 جنوری, 2026

    اب تک مجھے نہ کوئی مرا رازداں ملا

    جمیل الدین عالی​ کی ایک اردو غزل
    30 نومبر, 2019

    قدیم درد نیا واسطہ نہ بن جائے

    ایک اردو غزل از رفیق لودھی
    7 اکتوبر, 2025

    زندگی زخم سے موسوم

    سیدہ صائمہ کامران کی ایک اردو غزل
    20 ستمبر, 2020

    عشق سے مَیں ڈَر چُکا تھا, ڈَر چُکا تو تم ملے

    اورنگ زیبؔ کی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button