26 جون, 2020

    آتے ہی آتے تیرے یہ ناکام ہوچکا

    میر تقی میر کی ایک غزل
    26 اپریل, 2020

    ہنسنے نہیں دیتا کبھی رونے نہیں دیتا

    عباس تابش کی ایک اردو غزل
    14 اپریل, 2020

    یہی دعا ہے یہی ہے سلام عشق بخیر

    رحمان فارس کی ایک غزل
    4 جنوری, 2020

    گلوں کو سننا ذرا تم

    گلزار کی ایک اردو غزل
    22 جون, 2020

    دل کو جب تیری رہگزر جانا

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    19 نومبر, 2025

    مہینہ دسمبر کا

    ایک اردو غزل از رشید حسرت
    14 نومبر, 2025

    میٹھی سی چاندنی ہے

    ایک اردو غزل از کویتا غزل مہرا
    21 جون, 2020

    راہ میں شمع جلا بیٹھے ہیں

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    13 جون, 2020

    غم آفاق ہے رسوا غم دلبر بن کے

    حفیظ ہوشیارپوری کی اردو غزل
    7 نومبر, 2025

    تم نے عجلت سی دکھائی ہے

    کومل جوئیہ کی ایک اردو غزل
    16 اگست, 2020

    ‏خیال یار نہ آسان لیجیے صاحب

    مرزا مقبول احمد کی ایک اردو غزل
    22 جون, 2020

    مرحلہ دل کا نہ تسخیر ہوا

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    20 جون, 2020

    نہ سہی ساز غم ساز تو ہے

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    20 جون, 2020

    وہ رگ دل میں رگ جاں میں رہے

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    19 مارچ, 2022

    ہم اگر تیری نگاہوں پہ نہ وارے جاتے

    ایک اردو غزل از عمر اشتر

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button