28 جون, 2020

    میر دریا ہے سنے شعر زبانی اس کی

    میر تقی میر کی ایک غزل
    30 نومبر, 2019

    ہم جو ویران گھر میں رہتے ہیں

    ایک اردو غزل از رفیق لودھی
    8 مئی, 2020

    وہ مصور کے بس کا کام نہیں

    مبشر سعید کی ایک اردو غزل
    16 جنوری, 2020

    اتر گیا تن نازک سے

    ایک غزل از شکیب جلالی
    9 اپریل, 2023

    تلخ لہجے سے اپنے مارتے ہو

    تسلیم اکرام کی ایک اردو غزل
    23 مئی, 2020

    پھر سے دل کے آسماں پر حیرتوں کا در کھلا

    آسناتھ کنول کی ایک اردو غزل
    30 نومبر, 2019

    قصّے کہانیوں میں چھپایا گیا مجھے

    ایک اردو غزل از رفیق لودھی
    22 مئی, 2020

    تو بتا اے دلِ بیتاب کہاں آتے ہیں

    سعید خان کی اردو غزل
    26 جون, 2020

    شبنم سے کچھ نہیں ہے گل و یاسمن میں آب

    میر تقی میر کی ایک غزل
    29 دسمبر, 2019

    یہ کیسا ابر دل پر چھا گیا ہے

    سعود عثمانی کی ایک اردو غزل
    12 جنوری, 2020

    پتہ پتہ بوٹا بوٹا

    ایک اردو غزل از میر
    2 اپریل, 2020

    زہر آلود ہے ہر سانس، نہیں لے سکتے

    عمیر نجمی کی ایک اردو غزل
    31 مئی, 2024

    یہ دن بھی دیکھنا تھا

    ریحانہ روحی کی ایک اردو غزل
    23 اپریل, 2020

    قریب آئے سماعت کو آشنائی دے

    ایک اردو غزل از ارشاد نیازی
    29 مئی, 2020

    پھر جدائی، پھر جئے، پھر مر چلے

    عدیم ہاشمی کی اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button