27 اپریل, 2025

    کبھی وہ ہاتھ نہ آیا ہواؤں جیسا ہے

    ایک غزل از حکیم ناصر
    31 مئی, 2020

    آنکھوں میں تیرتے ہیں جو خواب شبنمی سے

    ناہید ورک کی اردو غزل
    20 مئی, 2020

    پھر یہ کیوں مستعار لی جائے

    ایک اردو غزل از ناصر ملک
    1 مارچ, 2017

    محبّت ایسی عبادت کسک پہ ختم ہوئی

    شاہد ذکی کی ایک اردو غزل
    6 جون, 2020

    محو – گریہ ہے فلک جانے کہاں گم ہو گئیں

    ایک اردو غزل از عاطف کمال رانا
    22 مئی, 2024

    مجھ کو شکست دل کا مزا یاد آ گیا

    خمار بارہ بنکوی کی ایک اردو غزل
    26 دسمبر, 2024

    بس ایک میں تھی کوئی

    فرح گوندل کی ایک اردو غزل
    5 اپریل, 2020

    شام کے سائے جلتے رہیں گے

    شجاع شاذ کی ایک اردو غزل
    16 جنوری, 2020

    حسنِ فردا غمِ امروز سے

    شکیب جلالی کی ایک اردو غزل
    31 مئی, 2020

    کیا کہا

    ناہید ورک کی اردو غزل
    25 جون, 2020

    پھریے کب تک شہر میں اب سوے صحرا رو کیا

    میر تقی میر کی ایک غزل
    29 نومبر, 2019

    کون بھنور میں ملّاحوں سے اب تکرار کرے گا

    ایک غزل از نوشی گیلانی
    6 جولائی, 2025

    ہیں محوِ حیرتِ دنیا

    سعید سعدی کی ایک اردو غزل
    21 جون, 2020

    تھا میسر نہ ایک تار ہمیں

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    8 جولائی, 2021

    نہ تجھ سے ہے گلہ نہ آسمان سے ہوگا

    عباس تابش کی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button