8 اکتوبر, 2014

    کچھ یادگار شہر ستم گر ہی لے چلیں

    ایک اردو غزل از ناصر کاظمی
    20 جون, 2020

    یہ قول کسی کا ہے کہ میں کچھ نہیں‌ کہتا

    داغ دہلوی کی اردو غزل
    25 مئی, 2026

    تجھ سے جو روز ملاقات مری رہتی ہے

    ڈاکٹر الیاس عاجز کی ایک غزل
    24 ستمبر, 2025

    اٹھائے رنج کئی خود کو آزماتے ہوئے

    منزہ سحر کی ایک اردو غزل
    17 جنوری, 2025

    غائب کیے جو وقت نے اوراقِ زندگی

    منزّہ سیّد کی ایک غزل
    23 اکتوبر, 2019

    اب کسی سے مرا حساب نہیں

    جون ایلیا کی ایک غزل
    13 جون, 2020

    جاؤں جس سمت اِجازت ہے مجھے

    کاشف حسین غائر کی ایک اردو غزل
    17 فروری, 2026

    تیری آنکھوں کی طرف

    لطیف ساجد کی ایک اردو غزل
    20 نومبر, 2019

    ستم سکھلائے گا

    ایک اردو غزل از فیض احمد فیض
    23 اپریل, 2022

    کہیں جواب کہیں پر دلیل جھوٹی ہے

    ایک اردو غزل از شہلا خان
    16 جنوری, 2020

    میں اس گلی میں اکیلا تھا

    شکیب جلالی کی ایک اردو غزل
    23 جنوری, 2020

    اس نے تراشا ایک نیا عذرِ لنگ پھر

    ایک اردو غزل از عزیز نبیل
    26 دسمبر, 2024

    ابھی پات جھڑنے کی رت

    فرح گوندل کی ایک اردو غزل
    13 جون, 2020

    غالباً وقت کی کمی ہے یہاں

    کاشف حسین غائر کی ایک اردو غزل
    20 جون, 2020

    دیکھئے رات کیسے ڈھلتی ہے

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button