آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریفرید احمد

تا فلک کیوں رسا ہو نوائے بشر

فرید احمد کی ایک اردو غزل

تا فلک کیوں رسا ہو نوائے بشر
یاں بشر تک نہ پہنچے صدائے بشر

کیوں دیارِ تخیّل کے ہوں ہم مکیں
اک نظر ضبط ہو گر ادائے بشر

منظرِ دہر کیونکر فسوں ساز ہو
تابِ جشمک نہ گر آزمائے بشر

بھول کر تجھ کو اور نالہءِ نیم شب
نذرِ گریہ ہوا آشنائے بشر

خواہشِ خاکِ تن ہے بجز خاک کیا؟
رائگاں بارِ زحمت اُٹھائے بشر

زحمتِ لب کشائی نہیں زیب واں
خامشی ہو جہاں مدّعائے بشر

رہزن و راہبر ہیں تجھی میں نہاں
دیکھنا یہ ہے تُو کس کو پائے، بشر

ہے فزوں تر یہ نکتہ گماں سے ترے
تجھ کو کہتا ہے نائب خدائے بشر

چشمِ بینا ہے دستِ ہنر تک محیط
چارہءِ وصل کیا ماسوائے بشر

دعوی’ءِ حق شناسی ہو کونکر نہ خام
جب تلک اصل اپنی نہ پائے بشر

وجہِ تسکینِ دل کچھ نہیں ہے فرید
بس، رضائے الٰہی رضائے بشر

فرید احمد دیو

post bar salamurdu

فرید احمد

فرید احمد دیو - قلمی نام : فرید احمد - ڈالووالی سیالکوٹ پاکستان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button