27 جون, 2025

    دل تماشائی رہے اچھا ہے

    محمد شاہ زیب احمد کی ایک اردو غزل
    26 فروری, 2025

    تو نے مجھ کو نہ غزل گوئی

    عدنان اثر کی ایک غزل
    25 جون, 2020

    مذکور میری سوختگی کا جو چل پڑا

    میر تقی میر کی ایک غزل
    21 جون, 2020

    آپ کی یا جہاں کی بات کریں

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    14 اکتوبر, 2025

    کیسے کہوں وہ دل کا ہے

    شاز ملک کی ایک اردو غزل
    26 اکتوبر, 2025

    داد کب ضبطِ مسلسل پہ

    فرید احمد کی ایک اردو غزل
    25 جون, 2020

    جلوہ نہیں ہے نظم میں حسن قبول کا

    میر تقی میر کی ایک غزل
    27 اپریل, 2020

    خواہاں ہوں بوئے باغِ تنزہ شمیم کا

    مصطفیٰ خان شیفتہ کی ایک اردو غزل
    8 جون, 2020

    چکلے

    ساحرؔ لدھیانوی کی اردو نظم
    22 اپریل, 2020

    چل چھوڑ محبت کی باتیں

    ڈاکٹر الیاس عاجز کی ایک غزل
    11 اکتوبر, 2025

    زخموں کی طرح شمع دل زار جلی ہے

    منزہ انور گوئندی کی ایک اردو غزل
    4 جنوری, 2023

    زخم جب سینے کو مہکا نے لگا

    غزل بقلم محمد ولی اللّٰہ ولی
    28 جون, 2020

    کچھ کرو فکر مجھ دوانے کی

    میر تقی میر کی ایک غزل
    11 مئی, 2020

    باغ سے جھولے اتر گئے

    اظہر فراغ کی ایک اردو غزل
    20 مئی, 2020

    دوستوں کے درمیاں ہوتے ہوئے

    سعید خان کی اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button