30 جون, 2020

    پر نہیں جو اڑ کے اس در جایئے

    میر تقی میر کی ایک غزل
    25 جون, 2020

    کل دل آزردہ گلستاں سے گذر ہم نے کیا

    میر تقی میر کی ایک غزل
    19 ستمبر, 2025

    وہ کسی اور سے ملا ہوگا

    دانش عزیز کی ایک اردو غزل
    13 جون, 2020

    متاعِ جسم و جاں کس کے لیے ہے

    کاشف حسین غائر کی ایک اردو غزل
    29 نومبر, 2019

    ہوگئے دن جنہیں بھلائے ہوئے​

    انور شعورکی ایک اردو غزل
    8 دسمبر, 2025

    حسین چہروں سے غزلیں نکال لیتے ہیں

    مظفرؔ ڈھاڈری بلوچ کی ایک اردو غزل
    9 اپریل, 2020

    آخر یہ حسن چھپ نہ سکے گا نقاب میں

    اسماعیلؔ میرٹھی کی ایک اردو غزل
    7 دسمبر, 2025

    سیر کرنے کو میں کیوں جاؤں

    فیاض ڈومکی کی ایک اردو غزل
    21 جون, 2020

    زندگی دل کا سکوں چاہتی ہے

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    1 اپریل, 2020

    مذکورہ تری بزم ميں کس کا نہيں آتا

    ابراہیم ذوق کی اردو غزل
    8 جون, 2020

    ناکامی

    ساحرؔ لدھیانوی کی اردو نظم
    3 ستمبر, 2024

    کسی کے واسطے اس طرح

    شبانہ یوسف کی ایک اردو غزل
    27 جون, 2020

    ہر صبح شام تو پئے ایذاے میر ہو

    میر تقی میر کی ایک غزل
    10 جنوری, 2025

    ماہتابِ دلکشی

    شاکرہ نندنی کی ایک اردو غزل
    26 جون, 2025

    سرِ شام

    ذیشان احمد خستہ کی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button