20 دسمبر, 2019

    پھر نہ کہنا ہم کو نالوں سے پریشانی ہوئی

    ایک اردو غزل از قمر جلال آبادی
    10 جون, 2024

    فریبِ منصب و دستار سے نکل آیا

    ڈاکٹر طارق قمر کی ایک اردو غزل
    30 جون, 2020

    جو زندگی کے ہر ایک دھارے میں جاگتا ہے

    قمر رضا شہزاد کی اردو غزل
    18 اپریل, 2020

    وقت ہر بار بدلتا ہوا رہ جاتا ہے

    شمشیر حیدر کی ایک اردو غزل
    14 مئی, 2024

    سرِ بازار

    ناصر زملؔ کی ایک اردو غزل
    2 فروری, 2020

    خواب،تعبیر سفر میرے سہارے کب تھے

    رانا عثمان احمر کی ایک اردو غزل
    15 دسمبر, 2024

    ادائیں تم بنا لینا اشارے میں بناؤں گا

    خالد ندیم شانی کی ایک اردو غزل
    27 جون, 2020

    اب اسیری سے بچیں تو دیکھیں گے گلشن کبھو

    میر تقی میر کی ایک غزل
    5 نومبر, 2020

    کسی کی یاد آنے پر مجھے تم کیوں بلاتے ہو

    شازیہ اکبر کی اردو غزل
    5 فروری, 2020

    نکلا ہوں شہر خواب سے ایسے عجیب حال میں

    نکلا ہوں شہر خواب سے ایسے عجیب حال میں غرب مرے جنوب میں شرق مرے شمال میں کوئی کہیں سے…
    7 جنوری, 2020

    ترے جلووں کے آگے ہمت شرح و بیاں رکھ دی

    ایک اردو غزل از اصغر گونڈوی
    26 دسمبر, 2025

    دل گیا رونق حیات گئی

    جگر مراد آبادی کی ایک اردو غزل
    24 نومبر, 2025

    نہیں کھانے کا گھر میں

    ایک اردو غزل از رشید حسرت
    22 جون, 2020

    چشم نظارہ پہ کیا کوئی بھی الزام نہ تھا

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    30 نومبر, 2020

    موت کچھ آسان ہوتی جا رہی

    عمران ڈین کی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button