8 نومبر, 2025

    خواب دیکھا تھا کسی مغرور کا

    کومل جوئیہ کی ایک اردو غزل
    8 جون, 2020

    معذوری

    ساحرؔ لدھیانوی کی اردو نظم
    14 مئی, 2020

    سبھی کو بندشِ گُفتار ہونا چاہیے تھا

    سمیر شمس کی اردو غزل
    16 اکتوبر, 2025

    جس کے ہاتھ میں تانا بانا ہوتا ہے

    اظہر عباس خان کی ایک اردو غزل
    30 اپریل, 2020

    کچھ درد ہے مطربوں کی لے میں

    مصطفیٰ خان شیفتہ کی ایک اردو غزل
    13 جنوری, 2021

    چاند

    ایک اردو غزل از ریحانہ علی
    21 جون, 2020

    اپنے زخموں میں چھپے جاتے ہیں

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    22 فروری, 2026

    اٹھا کے کاسۂ کون و مکاں سوال کیا

    عثمان علوی کی ایک اردو غزل
    3 دسمبر, 2019

    ہر سمت غمِ ہجر کا طوفان ہے محسن

    محسن نقوی کی اردو غزل
    3 دسمبر, 2019

    عرضِ ہنر بھی وجہِ شکایات ہو گئی

    حفیظ جالندھری کی اردو غزل
    29 جون, 2020

    الٰہی کہاں منھ چھپایا ہے تو نے

    میر تقی میر کی ایک غزل
    21 مئی, 2020

    پھول جس کے لب و رخسار کے شیدائی ہیں

    سعید خان کی اردو غزل
    21 جنوری, 2020

    آنکھ سے دور نہ ہو دل سے اتر جائے گا

    ایک اردو غزل از احمد فراز
    27 ستمبر, 2025

    جا کہہ جو دیا

    روبینہ شاد کی ایک اردو غزل
    21 جون, 2020

    چیں بہ جبیں ہو

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button