اردو غزلیاتشعر و شاعریمیر تقی میر

متاع دل اس عشق نے سب جلا دی

میر تقی میر کی ایک غزل

متاع دل اس عشق نے سب جلا دی
کوئی دن ہی میں خاک سی یاں اڑا دی

دلیل اس بیاباں میں دل ہی ہے اپنا
نہ خضر و بلد یاں نہ رہبر نہ ہادی

مزاجوں میں یاس آگئی ہے ہمارے
نہ مرنے کا غم ہے نہ جینے کی شادی

نہ پوچھو کہ چھاتی کے جلنے نے آخر
عجب آگ دل میں جگر میں لگا دی

وفا لوگ آپس میں کرتے تھے آگے
یہ رسم کہن آہ تم نے اٹھا دی

جدا ان غزالان شہری سے ہوکر
پھرے ہم بگولے سے وادی بہ وادی

صبا اس طرف کو چلی جل گئے ہم
ہوا یہ سبب اپنے مرنے کا بادی

وہ نسخہ جو دیکھا بڑھا روگ دل کا
طبیب محبت نے کیسی دوا دی

ملے قصر جنت میں پیر مغاں کو
ہمیں زیر دیوار میخانہ جا دی

نہ ہو عشق کا شور تا میر ہرگز
چلے بس تو شہروں میں کریے منادی

یر تقی میر

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button