14 ستمبر, 2025

    ہجر کا رنج گھٹے ایسی دعا جانتا ہے

    کومل جوئیہ کی ایک اردو غزل
    26 جون, 2020

    رہیے بغیر تیرے اے رشک ماہ تا چند

    میر تقی میر کی ایک غزل
    29 نومبر, 2019

    آگ لہرا کے چل رہے ہو اِسے آنچل کر دو

    اردو غزل از بشیر بدر
    18 ستمبر, 2022

    مرا باطن مجھے ہر پل نئی دنیا دکھاتا ہے

    تیمور حسن تیمور کی ایک اردو غزل
    17 دسمبر, 2025

    زندگی کا ہاتھ بھی اک دن

    کرن منتہیٰ کی ایک اردو غزل
    21 جون, 2020

    کس نے دیکھا ہے غم کا آئنہ

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    19 اکتوبر, 2025

    ہے گرم ملکوں کا سورج ترے جلال کی گرد

    خاطر غزنوی کی ایک اردو غزل
    22 مئی, 2020

    دروازے پر قفل پڑا ہے

    ایک اردو غزل از ثمینہ راجہ
    9 مئی, 2020

    نیند کی شان بڑھائے تو مزہ آ جائے

    مبشر سعید کی ایک اردو غزل
    5 اپریل, 2020

    کسی کا خواب کسی کا قیاس ہے دنیا

    ذوالفقار عادل کی ایک اردو غزل
    20 جون, 2025

    لوگ تو لوگ ہیں لوگوں کی طرح دیکھتے ہیں

    ہمانشی بابرا کی ایک اردو غزل
    26 اکتوبر, 2025

    یکساں نگارِ دہر میں ہر ایک رنگ ہے

    فرید احمد کی ایک اردو غزل
    22 جون, 2020

    اپنی تنہائی پہ مر جانا پڑا

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    19 نومبر, 2019

    سوچتا ہوں كے اسے نیند بھی آتی ہوگی

    ایک غزل از وصی شاہ
    21 نومبر, 2025

    میں جہاں جاؤں تعاقب میں ہے رسوائی مری

    ایک اردو غزل از رشید حسرت

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button