4 اپریل, 2020

    خودی سے پا کے اب فرار دور رہنا ہے

    رینو نیّرؔ کی اردو غزل
    27 فروری, 2017

    قبر پر وہ بتِ گل فام آیا

    مصطفیٰ خان شیفتہ کی ایک اردو غزل
    27 جون, 2020

    گل کو ہوتا صبا قرار اے کاش

    میر تقی میر کی ایک غزل
    7 جنوری, 2020

    دل سے شوق رخ

    ایک اردو غزل از میر
    7 دسمبر, 2021

    سوچوں تو خیال اور بھی ہیں

    شازیہ اکبر کی اردو غزل
    23 اگست, 2020

    موت مزہ چکھائےگی آج نہیں تو کل سہی

    ایک اردو غزل از طلعت سروہا
    8 جنوری, 2020

    وہ جن کے نقش قدم

    سلیم کوثر کی ایک اردو غزل
    26 جون, 2020

    کجی اس کی جو میں جتانے لگا

    میر تقی میر کی ایک غزل
    27 مئی, 2020

    منظر سے اُدھر خواب کی پسپائی سے آگے

    دلاور علی آزر کی اردو غزل
    30 جون, 2020

    سبھی کچھ خاک میں تحلیل ہوتا جا رہا ہے

    قمر رضا شہزاد کی اردو غزل
    9 اپریل, 2020

    ابر بادل ہے اور سحاب گھٹ

    اسماعیلؔ میرٹھی کی ایک اردو غزل
    18 مئی, 2025

    بکنے لگتا ہوں تو

    ڈاکٹر فیصل شہزاد کی ایک اردو غزل
    19 نومبر, 2019

    بچھڑ گیا تھا کوئی خواب دل نشیں

    شاہد ذکی کی ایک اردو غزل
    2 جنوری, 2021

    شجر شاخوں کو جب سے کھا رہے ہیں

    رانا عثمان احامر کی ایک اردو غزل
    29 نومبر, 2019

    کٹ چکی تھی یہ نظر سب سے بہت دن پہلے

    انور شعورکی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button