اردو نظم
اردو زبان کی شاعری میں نظم کے لیے بحر وزن اور قافیہ و ردیف (یا صرف قافیہ) کی پابندی ضروری ہے۔ موضوع کی کوئی قید نہیں۔ نظم کسی بھی موضوع پر کسی بھی ہیئت (یعنی مثنوی، قصیدہ، مسدس، مربع یا ترکیب بند وغیرہ) میں لکھی جا سکتی ہے۔ عموماً کسی ایک خیال یا تصوّر کو موضوعِ نظم بنایا جاتا ہے، یعنی نظم کے لیے صرف تسلسلِ خیال ضروری ہے۔
اردو زبان میں نظم بنیادی طور پر شاعری کی ایک ایسی قسم ہے جس میں کسی ایک ہی خیال کو الفاظ کے ہموار بہاؤ کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے۔جہاں تمام اشعار لکھنے والے کے خیال کے تسلسل کا اظہار کرتے ہیں جبکہ دوسری جانب غزل کا ہر شعر اپنی جگہ مکمل اور مختلف معنیٰ رکھتا ہے۔اگر وسیع پیمانے پر دیکھا جائے تو نظم اردو شاعری کی ان تمام اقسام کی نمائندگی کرتی ہے جن کو کسی اور تعریف کے ذریعے بیان نہیں کیا جاسکتا لیکن ادبی نکتہ نظر سے نظم شاعری کی ایک بہت منظوم اور منطقی لحاظ سے غیر محسوس طور پر ٹھوس صنعف ہے جس میں شاعری کا مرکزی خیال ایک ہوتا ہے اگرچہ روایتی نظم میں بھی پابندیاں ضروری ہیں لیکن کئی جگہوں پر ہمیں کئی شہکار آزاد نظموں کی بھی مثالیں ملتی ہیں نظم کے ادبی معنیٰ نثر کی ضد کے ہیں۔
-

رات کے پچھلے پہر
سمیع اللہ خان کی ایک اردو نظم
-

یہ تو آگ ہے
ڈاکٹر وحید احمد کی ایک اردو نظم
-

قائد ہمیں تیری ضرورت ھے
تسلیم اکرام کی اردو نظم
-

ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی
ڈاکٹر وحید احمد کی ایک اردو نظم
-

حمد
ڈاکٹر وحید احمد کی ایک اردو نظم
-

فارغ
ڈاکٹر وحید احمد کی ایک اردو نظم
-

محرم میرے بعد تمھارے
طارق اقبال حاوی کی ایک اردو نظم
-

اے وطن تو ہمیشہ سلامت رہے
ڈاکٹر الیاس عاجز کی ایک نظم
-

دشمنوں کے دل دہل جاتے ہیں اک للکار سے
تحریر....منزّہ سیّد
-

ہمارے وطن
ڈاکٹر الیاس عاجز کی ایک نظم
-

غنچہ لفظوں کا
خدیجہ آغا کی نظم
-

ماں
خدیجہ آغا کی نظم
-

بابا
خدیجہ آغا کی نظم
-

آہ زینب
خدیجہ آغا کی نظم
-

سوچوں دن رات
خدیجہ آغا کی نظم
-

خواہش
خدیجہ آغا کی نظم
-

کریں چراغاں
خدیجہ آغا کی آزاد نظم
-

آج کل آزاد خیال لڑکیاں
خدیجہ آغا کی آزاد نظم
-

بہروپئے!!!!!
ڈاکٹر وحید احمد کی ایک اردو نظم










