- Advertisement -

رنگ

سمیع اللہ خان کی ایک اردو نظم

رنگ

آج صبح پہاڑی کی اوٹ میں
بہتے چشمے کا پانی پیتے سمے
تیرے نیلے کوٹ کی تپش نے ستایا تو
میں اپنے سٹوڈیو میں چلی گئی
وہاں اسے اتار کر بورڈ کے ساتھ لٹکا دیا
اور جسم سے لپٹے لمس کو
انگلیوں کے پوروں سے
بُرش میں اتارنے لگی
جب رنگ کی بے ترتیب دھاروں نے
تیرا روپ دھارا تو
تُوں نے اپنا بازو میری کمر کے گرد حمائل کر دیا
میرے گالوں پر پھیلتا سُرخی مائل رنگ
تیرے بائیں کان کے ساتھ بورڈ پر منتقل ہونے لگا
پھر تھرتھراتے برش میں سے لمس میری جانب ایسے مڑا
جیسے بیک کرنٹ ٹھنڈی تاروں سے نکل کر
پوری طاقت سے ڈستا ہے
اور پھر میری انگلیوں نے اکٹھے ہو کر جب
تیری سفید شرٹ پر سلوٹیں بھر دیں
تب دیوار سے جھانکتی کسی دُز دیدہ نگاہ نے
اسے کینوس پر اتار کر
رنگوں کو ہوس زدہ قرار دے دیا

سمیع اللہ خان

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
شیخ خالد زاہد کا اردو کالم