30 جون, 2020

    دل مرا مضطرب نہایت ہے

    میر تقی میر کی ایک غزل
    20 فروری, 2026

    یہ زندگانی کسی کی یادوں سے متصل ہے

    عاجز کمال رانا کی ایک اردو غزل
    30 جون, 2020

    انا کا نشہ خودی کا خمار ٹوٹتا ہے

    قمر رضا شہزاد کی اردو غزل
    27 ستمبر, 2025

    تم کو اس کا شعور تھا ہی نہیں

    روبینہ شاد کی ایک اردو غزل
    21 جون, 2020

    وقت چپ سا کھڑا ہے رستے میں

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    23 اگست, 2020

    عدو کا ذکر نہیں دوستوں کا نام نہیں

    لیاقت علی عاصم کی ایک اردو غزل
    13 جون, 2020

    ہَوائے شب نے جسے تھا نظر میں رکھّا ہُوا

    کاشف حسین غائر کی ایک اردو غزل
    21 جون, 2020

    دل کسی صورت ٹھہر پاتا نہیں

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    27 نومبر, 2019

    جب سے باندھا ہے تصور

    امیر مینائی کی اردو غزل
    28 جولائی, 2020

    انوکھا ہے انداز میری فُغاں کا

    ڈاکٹر الیاس عاجز کی ایک غزل
    29 دسمبر, 2024

    یہ خواب جو ہم سفر ہیں میرے

    قیصرالجعفری کی ایک اردو غزل
    10 جنوری, 2026

    بدن بھیگیں گے برساتیں رہیں گی

    آشفتہ چنگیزی کی ایک اردو غزل
    29 نومبر, 2019

    سلیمانِ سخن تو خیر کیا ہوں

    انور شعورکی ایک اردو غزل
    19 نومبر, 2019

    جمع تم ہو نہیں سکتے

    ایک غزل از وصی شاہ
    14 اپریل, 2020

    مجھے غرض ہے ستارے نہ ماہتاب کے ساتھ

    رحمان فارس کی ایک غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button