- Advertisement -

یاد کی دسترس میں رہتی ھوں

تہمینہ مرزا کی ایک اردو غزل

یاد کی دسترس میں رہتی ھوں
میں کہاں اپنے بس میں رہتی ھوں

جس میں کوئی نہیں ھے دروازہ
ایک ایسے قفس میں رہتی ھوں

مجھ کو سننا نہیں کوئی مشکل
میں صدائے جرس میں رہتی ھوں

برسوں پہلے ملی تھی میں تجھ سے
آج تک اس برس میں رہتی ھوں

میرا مرقد ھے آخرش مٹی
اس لئے خار و خس میں رہتی ھوں

زندگی بن گئی ھے دوراہا
آج کل پیش و پس میں رہتی ھوں

ڈھونڈتے ھو کہاں ھے تہمینہ
میں دیار_ نفس میں رہتی ھوں

تہمینہ مرزا

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
تہمینہ مرزا کی ایک اردو غزل